مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے مرکزی بینک کے بین الاقوامی امور کے نائب ابوالفضل کودهئی نے چین کے شہر شین ژین میں منعقدہ دو روزہ مشاورتی اجلاس میں شرکت کی، جہاں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن اور مبصر ممالک کے نمائندوں نے مجوزہ بینک کے تکنیکی، انتظامی اور عملی پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا۔
ایرانی مرکزی بینک کے مطابق اجلاس میں بینک کے قیام کے عمل کو تیز کرنے سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے، جبکہ ایرانی وفد نے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی اور مالی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعدد عملی تجاویز بھی پیش کیں۔
ابوالفضل کودهئی نے کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم کے مالیاتی اور بینکاری تعاون کو فروغ دینے اور رکن ممالک کے درمیان اقتصادی روابط مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نئے بینک کے سرمایہ جاتی ڈھانچے میں رکن ممالک کی قومی کرنسیوں کو شامل کیا جائے اور مالی لین دین کے لیے آزاد اور متبادل نظام وضع کیا جائے۔
واضح رہے کہ ایران نے گزشتہ مئی میں کرغزستان میں منعقدہ اجلاس کے دوران بھی شنگھائی تعاون تنظیم کے ترقیاتی بینک کے قیام کی تجویز پیش کی تھی۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک میں چین، روس، بھارت، ایران، پاکستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بیلاروس شامل ہیں۔
آپ کا تبصرہ